حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، میرواعظِ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے تقریب کی صدارت کی اور کامیاب طلبہ و طالبات میں نقد انعامات، یادگاری شیلڈز اور اسناد تقسیم کیں۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے طلبہ، والدین، اساتذہ، منتظمین اور معاونین کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ کسی بھی معاشرے کی سب سے اہم سرمایہ کاری اپنے بچوں کے کردار اور اقدار کی تعمیر میں ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر بچوں میں کم عمری ہی سے دیانت داری، ہمدردی، احترام، ذمہ داری، نظم و ضبط، احساسِ انسانیت اور دوسروں کی فکر جیسی صفات پیدا کی جائیں تو یہی اقدار آگے چل کر اس معاشرے میں لازماً نمایاں ہوں گی جس کی تعمیر یہ بچے کریں گے۔
میرواعظ نے کہا کہ بچے ہمیشہ بچے نہیں رہتے۔ یہی بچے کل کے شہری، پیشہ ور، والدین اور فیصلہ ساز بنتے ہیں۔ آج ہم انہیں جو اقدار دیں گے، وہی مستقبل میں ہمارے معاشرے کے کردار کا تعین کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ بچوں کو سیرتِ رسول اکرم سے روشناس کروانے کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ انہیں محض واقعات اور معلومات سے آگاہ نہ کیا جائے بلکہ سیرتِ طیبہ کی اقدار کو ان کی شخصیت، کردار، رویوں اور باہمی تعلقات کا حصہ بنایا جائے۔
میرواعظ نے کہا کہ آج معاشرے کو درپیش بہت سے سماجی مسائل کی جڑ بالآخر اقدار کے بحران میں پیوست ہے، اس لئے اخلاقی اور کردار سازی کی تعلیم کو بھی وہی اہمیت دی جانی چاہئے جو رسمی اور فنی تعلیم کو دی جاتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ذمہ داری صرف اسکولوں کی نہیں ہے بلکہ والدین، اساتذہ، دینی اداروں اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ بچوں کو ایسا ماحول فراہم کیا جائے جہاں اچھی اقدار صرف پڑھائی نہ جائیں بلکہ عملی طور پر ان پر عمل بھی کیا جائے۔
میرواعظ نے میرواعظ فاؤنڈیشن اور مکتبہ مسیح الامت کی جانب سے اس پروگرام کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی سرگرمیوں کو باقاعدہ اور مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جانا چاہئے تاکہ بچوں کو نہ صرف سیرتِ نبوی کا مطالعہ کرنے کی ترغیب ملے بلکہ وہ اس کی تعلیمات اور اقدار کو اپنی روزمرہ زندگی میں بھی اپنائیں۔
انہوں نے مقابلے میں شریک تمام طلبہ و طالبات کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انعامی پوزیشن حاصل کرنے سے قطع نظر، سیرتِ رسول کو جاننے، سمجھنے اور اس کے ساتھ وابستگی پیدا کرنے کی ان کی کوشش قابلِ تحسین اور حوصلہ افزائی کی مستحق ہے۔

بارہ سال سے کم عمر کے زمرے میں مکتبہ تعلیم القرآن، شیشہ گری محلہ خانیار کے مؤمن شبیر نے پہلی پوزیشن حاصل کی، مکتبہ مسیح الامت، چند پورہ کی مریم سہیل نے دوسری جبکہ درسگاہ تعلیم القرآن، لار گاندربل کی شیخ صالحہ فیاض نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
ٍاٹھارہ سال سے کم عمر کے زمرے میں مکتبہ تعلیم النساء، نواکدل کی ہادیہ گلزار نے پہلی جبکہ سپریم کوچنگ سینٹر، گوجوارہ کی عروبہ نیاز نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔
تیسری پوزیشن مشترکہ طور پر مکتبۃ البنات، آروانی بجبہاڑہ کی اقرا اشرف، کنز العلوم، گلی کدل زونی مر کی منتشا شبیر، سپریم کوچنگ سینٹر گوجوارہ کے حماد جہانگیر، مکتبۃ البنات، آرونی بجبہاڑہ کی بسمہ گلزار، مکتبہ رحمیہ، بلبل لنکر کی سعدیہ اور درسگاہ اسلامیہ سینٹر، بٹہ مالو کے میسر مشتاق نے حاصل کی۔

کامیاب طلبہ و طالبات کو۵۰۰۰ روپے سے۱۵۰۰۰روپے تک کے نقد انعامات کے علاوہ یادگاری شیلڈز اور اسناد سے نوازا گیا۔
مقابلے میں طالبات کی کارکردگی خاص طور پر نمایاں رہی اور اعلیٰ پوزیشنیں حاصل کرنے والوں میں ان کی تعداد طلبہ کے مقابلے میں زیادہ رہی، جو ان کی شاندار کارکردگی کی عکاس ہے۔










آپ کا تبصرہ